بنیادی صفحہ » نوشتانک » بلوچی ادب کا روشن ستارہ …. بیگ محمد بیگل/ذوالفقار علی زلفی

بلوچی ادب کا روشن ستارہ …. بیگ محمد بیگل/ذوالفقار علی زلفی

دنیا کے مشکل ترین کاموں میں سے ایک کسی کو ہنسانا اور ہنساتے ہنساتے سوچنے پر مجبور کرنا ہے، یہ فن آتا ہے آتے آتے۔مزاح اور پھر سنجیدہ مزاح نہ صرف بلوچی ادب بلکہ دنیا کی تمام زبانوں کے ادب میں خال خال ہی ملتا ہے۔ بلوچی ادب اس لحاظ سے خوش قسمت واقع ہوا ہے کہ نثری ادب کے ایام طفلی میں اسے بیگ محمد بیگل جیسے سنجیدہ مزاح نگار کا ساتھ مل گیا۔’زنڈیں دپار‘ سے براستہ ’شکّل ءُ ماجین‘ ، پھر ’جوکر‘ تک اور ’جوکر‘ سے ’برزخ‘ تک بظاہر بیگل کا فنی سفر پُرپیچ اور افقی ہے مگر غور سے دیکھا جائے تو ان کا تخلیقی سفر جہاں تھا، وہیں ہے۔اس کی اہم ترین وجہ غالباً معروضی حالات کی نوعیت میں عدم تبدیلی ہے۔بیگل نے جب اپنے تخلیقی سفر کی شروعات کی تو کراچی سمیت بلوچستان بھر کا بلوچ سماج ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا، بلوچ، ریاستی اداروں کے زیر تسلط آچکا تھا، بلوچی زبان معدومیت کے خطرے سے دوچار تھی، بلوچ سماج ترقی کا راستہ بھٹک کر اِدھر اُدھر سر پھوڑ رہا تھا اور آج جب بیگ محمد بیگل کا تخلیقی سفر ان کی جسمانی موت کے ساتھ اختتام تک پہنچا، معروضی حالات میں کوئی خاص بدلاؤ نہیں آیا۔بیگ محمد بیگل تاحال بلوچی ادب کے واحد سنجیدہ مزاح نگار ہیں۔ وہ قاری کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیرنے کے لیے پھکڑ پن اور بازاری اندازِ بیان کا سہارا نہیں لیتے بلکہ وہ معاشرے کے انتہائی گھمبیر اور گنجلک مسائل و مشکلات کی تہہ میں چھپے مزاح کے پہلو کو شائستگی سے دریافت کر کے اسے نکھرے اور خوش گوار انداز میں پیش کرتے ہیں۔کراچی کی ماں، لیکن شہر کے حاشیے سے بھی بیدخل لیاری جو ان کا مسکن ہے، کی اذیت ناک تاریخ کو مزاحیہ انداز میں لکھنا اور ہیبت ناک کرداروں کا پُرمزاح تعارف یقیناً انہی کے بس کا روگ ہے۔وہ بظاہر اپنے گردوپیش کا تمسخر اڑاتے محسوس ہوتے ہیں مگر در حقیقت وہ صاف ستھری اجتماعی حماقت پر طنز کر کے سماج کی نچلی پرتوں کے بے انت دکھوں پر گریہ کناں ہیں۔صاف ستھری اجتماعی حماقت کا اٹوٹ حصہ ہونے کے باعث وہ اپنی ذات کو بھی تماشا بنا کر اس کا ایسا نقشہ کھینچتے ہیں کہ پتہ ہی نہیں چلتا وہ تماشا ہیں یا تماش بین۔البتہ ان کی وہ مزاحیہ دنیا جس کے وہ خود خالق ہیں، صرف لیاری سے مشابہت رکھتی ہے۔ ایسا لگتا ہے انہوں نے لیاری کو اپنا مورچہ بنا کر پوری دنیا پر طنز کے تیر برسانے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔ وہ اپنی کمین گاہ سے باہر نہیں نکلتے۔کیا ان کی تخلیقی سانسوں کو گھٹن محسوس نہیں ہوتی؟؟؟پہلی نظر میں اس کا ممکنہ جواب اثبات میں ہے کہ ہاں انہیں گھٹن محسوس ہونی چاہیے مگر جب قاری مکمل طور پر ان کی گرفت میں آ جاتا ہے تو وہ خود اسی ’محدود‘ ماحول کا حصہ بن کر لامحدود دنیا کا راہی بن جاتا ہے۔نپٹ روڈ (کراچی کا نیپئر روڈ جہاں قدیم بازارِ حسن واقع ہے، کو لیاری کے بلوچ نپٹ روڈ یعنی نجس روڈ کے نام سے پکارتے تھے۔ یہ نام ایک طرح سے انگریز حاکموں سے نفرت کا اظہار بھی تھا) کی رنگینی سے لے کر گری مالڈی (مشہور جوکر) کی سنگینی تک قاری ہنستے ہنستے سیر کرنے لگتا ہے اور اسی سیر کے دوران وہ دنیا کو کسی اور ڈھنگ سے دیکھنے پر خود کو مجبور پاتا ہے۔طنز کے بغیر مزاح ادھورا ہے، اس لیے وہ دو مسکراہٹوں کے قلیل وقفے کے دوران طنز کی برچھی مار کر قاری کو سیدھا کرتے ہیں۔ ان کا طنز مزاح کی طرح لطیف ہے جس کی کاٹ احساسات کو مجروح نہیں کرتی بلکہ ٹھٹک کر محسوس کرنے کی صلاحیت بخشتی ہے۔تاہم، ان کی تحریروں میں یکسانیت بعض اوقات ذہن کو بوجھل کر دیتی ہے۔ وہ دریافتوں کے لگے بندھے سلسلے کو جوڑتے جاتے ہیں، بغاوت کرتے ہیں مگر انقلابی نہیں بنتے۔ وہ ہاتھ میں تلوار لیے کھڑے ہیں مگر جب بھی وار کرتے ہیں تو نشانہ ’پانی‘ ہوتا ہے۔ وہ سوچوں کے در وا ضرور کرتے ہیں مگر لگتا ایسا ہے جیسے وہ ارادی طور پر ایسا نہیں کر رہے۔بیگ محمد بیگل گو کہ ادب اور سماج کے نظریاتی مباحث کا کبھی حصہ نہیں بنے بلکہ ان کی شہرت ایک روایت پسند اور ’غیر سیاسی ادیب‘ کی رہی ہے لیکن ان کی تحریروں میں بلوچ سیاست، ادب اور سماج کا گہرا تجزیہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ وہ ایک لحاظ سے روایت شکن بھی کہے جا سکتے ہیں کیوں کہ بہرکیف وہ خود ایک نئی روایت کے نہ چاہتے ہوئے بھی بانی ہیں۔بیگل کے اس سلسلے کو کون آگے بڑھائے گا؟فی الحال بلوچی ادب میں دور دور تک ایسا فن کار نظر نہیں آتا جو سماج اور اس کے تضادات کو سادہ اور پُرمزاح انداز میں عوامی سطح پر گہرائی سے بیان کر سکے۔ بہرکیف وہ بیج بو چکے ہیں، کونپل کو جلد یا بدیر پھوٹنا ہی ہوگا۔ بیگ محمد بیگل گزشتہ دنوں کراچی میں انتقال کرگئے۔

( یہ تحریر آج سے تین برس قبل لکھی گئی تھی۔)

بشکریہ:haalhawal.com

٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*